کرونا وائرس (COVID-19) کے بارے میں غلط بیانات اور حقائق

غلط: اینٹی بائیوٹک ادویات یا ملیریا کی ادویات سے کرونا وائرس کا علاج کیا جا سکتا ہے

درست: ابھی کرونا وائرس کے لیے کوئی ویکسین یا علاج موجود نہیں ہے۔

دنیا بھر میں محققین اس وائرس کی ویکسین بنانے کے لیے محنت کر رہے ہیں لیکن ہم نہیں جانتے کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔ وقت کے مختلف اندازے یعنی 12 یا 18 مہینے بتائے جا رہے ہیں۔

محققین کرونا وائرس کے علاج میں مدد کے لیے محتلف دوائیوں کے استعمال کے بارے میں بھی تحقیق کر رہے ہیں جن میں آرتھرائٹس، ملیریا اور ايچ آئی وی کی ادویات شامل ہیں۔ ان سے کرونا وائرس سے شفا نہیں ہو گی لیکن یہ وائرس میں مبتلا ہونے والے لوگوں کی تعداد اور مرض کی شدت میں شاید کمی کر سکتی ہیں۔

اس لیے یہ اہم ہے کہ ہم کرونا وائرس کی ویکسین یا علاج کے انتظار میں نہ بیٹھے رہیں – اور اسی لیے آسٹریلیا نے عوامی صحت کے اتنے زیادہ اقدامات اختیار کیے ہیں۔

غلط: بچے کرونا وائرس کو 'پھیلانے میں سب سے آگے ہیں'

درست: اگرچہ بالعموم بچوں کو جراثیم اور بیماریاں 'پھیلانے میں سب سے آگے' مانا جاتا ہے، اور بلاشبہ انفلوئنزا پھیلانے میں بچوں کا بہت ہاتھ ہوتا ہے، یہ بات کرونا وائرس کے سلسلے میں درست دکھائی نہیں دیتی۔ کم از کم اس وقت تک یہ درست نہیں ہے۔ دنیا میں کہیں بھی ایسی معلومات جمع نہیں ہوئیں جن سے پتہ چلتا ہو کہ اس وائرس کے وسیع پھیلاؤ کا سبب بچے ہیں۔ ہم اس امکان کو خارج نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ممکن ہے۔ لیکن تمام شواہد یہی ہیں کہ بچے کرونا وائرس کو پھیلانے میں آگے نہیں ہیں۔

غلط: آسٹریلیا ضرورت کے لیے کافی طبی سازوسامان اور ضروری چیزیں (سانس دلانے کی مشینیں، ماسک، ٹیسٹنگ کٹس) حاصل نہیں کر پا رہا

درست: مریضوں کے لیے، اور اس سے بھی بڑھ کر مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے طبی کارکنوں کے لیے آسان لفظوں میں پیغام یہ ہے – ہاں، آسٹریلیا کے پاس اس عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی سازوسامان موجود ہے۔ تاہم ٹیسٹنگ میں استعمال ہونے والی تمام چیزوں کے سلسلے میں دباؤ موجود ہے کیونکہ دنیا بھر میں ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی سپلائی اور مصنوعات سازی کی گنجائش ہے۔

طبی کارکنوں کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ ہمارے یہاں ذاتی تحفظ کا سازوسامان لگاتار پہنچ رہا ہے جس کے نتیجے میں مریضوں کو بہترین ممکن نگہداشت مل سکتی ہے۔ مثال کے طور پرNational Medical Stockpile  کے پاس 10 ملین (1 کروڑ) سے زیادہ ماسک ہیں۔ آسٹریلین حکومت National Medical Stockpile میں خوب تعداد مہیا رکھنے کے لیے لگاتار مزید ماسک حاصل کرنے کا کام کر رہی ہے اور وبا کے پھیلاؤ کے عرصے میں آسٹریلیا کے پاس اپنے طبی کارکنوں کی مدد کے لیے ذاتی تحفظ کا کافی سازوسامان موجود ہے۔ اس مقصد کے لیے ملک کے اندر مصنوعات سازی کی اہلیت اور گنجائش بھی بڑھائی جا رہی ہے۔

آسٹریلیا کے ہسپتالوں میں بالعموم وینٹیلیٹر (سانس دلانے کی مشین) والے 2200 بستر ہوتے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں میں اینیستھیزیا (بیہوشی کی دوا) دینے والی مشینوں اور دوسرے آلات کو نئے مقاصد کے لیے موزوں بنا کر اب ہم نے 4400 وینٹیلیٹر والے بستر تیار کر لیے ہیں اور ہم اس تعداد کو 7500 تک بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اپریل کے آغاز میں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل اور وینٹیلیٹر کی ضرورت رکھنے والے کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 20 تھی۔

Communicable Diseases Network Australia (آسٹریلیا میں چھوتی بیماریوں کا نیٹ ورک) ٹیسٹنگ کی ضرورت کے بارے میں اپنی رہنمائی پر دوبارہ غور کرنے کے لیے روزانہ میٹنگیں کر رہا ہے تاکہ صرف ضروری ٹیسٹنگ ہی کی جائے۔

غلط: کرونا وائرس کی وجہ سے ضرورت بڑھ جانے پر آسٹریلیا کے ہسپتال ضرورت پوری کرنے کے قابل نہیں رہیں گے

درست: آسٹریلیا کے پبلک ہسپتال اور پرائیویٹ ہسپتال کرونا وائرس کے مقابلے کے لیے متحد ہو چکے ہیں۔ آسٹریلین حکومت، سٹیٹس اور ٹیریٹریز کی حکومتوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں کے شعبے کے تاریخی تعاون کے نتیجے میں ملکی سطح پر34,000  اضافی بستر اور  105,000طبی کارکن دستیاب ہو جائیں گے جو کرونا وائرس کا مقابلہ کریں گے۔

پرائیویٹ شعبہ پبلک مریضوں کو ہسپتال کی خدمات مہیا کرے گا اور اس مقصد کے لیے پبلک نظام صحت کو  اپنے آلات، بستر، ضروری چیزیں اور عملہ مہیا کرے گا۔

اس تعاون سے یقینی ہو جائے گا کہ آسٹریلیا کے عالمی معیار کے نظام صحت میں شامل تمام طاقتیں وبا کے عرصے میں مریضوں کے حسب ضرورت علاج کے لیے تیار اور متوجہ ہیں۔

غلط: دو ہفتوں کے لاک ڈاؤن سے کرونا وائرس کا پھیلاؤ رک جائے گا

درست: دو یا تین ہفتوں تک پابندیاں لگا کر اور پھر پابندیاں ہٹا کر واپس عام زندگی شروع کر لینے سے کرونا وائرس کا پھیلاؤ نہیں رکے گا۔

کرونا وائرس کے صرف دو ہفتے کے لاک ڈاؤن سے یہ بھیانک مرض دوبارہ سر اٹھا لے گا، شاید پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہو کر۔

کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم نے دوسرے ممالک کی طرح بلینکٹ لاک ڈاؤن (باہر نکلنے پر مکمل پابندی) کیوں نہیں کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہماری صورتحال اٹلی، سپین اور ایران جیسے ممالک، اور چین کے شہر ووہان جیسی نہیں ہے جہاں وبا پھوٹی تھی یعنی ہم انفیکشن پھیلنے سے پہلے تیاریاں کرتے گئے ہیں۔

جس وقت ان ممالک میں ماہرین صحت کو پتہ چلا کہ کیا ہو رہا ہے، کرونا وائرس قابو سے نکل چکا تھا اور جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا تھا۔ اسی لیے ان ممالک کے ہسپتالوں کو بیماری کی شدید صورتوں میں مبتلا لوگوں کو سنبھالنے میں بہت مشکل ہوئی۔

ہمارے ماہرین صحت آسٹریلیا میں ہر روز نئے کیسوں کی تعداد اور جن علاقوں میں وائرس ایک سے دوسرے انسان کو لگ رہا ہے، ان پر مسلسل نظر رکھیں گے۔ اس طرح وہ شواہد کی بنیاد پر مشورے دیں گے کہ کن نئے اصولوں یا پابندیوں کو متعارف کروانا ضروری ہے۔ سب لوگوں کو اس ویب سائیٹ کے ذریعے حالیہ پابندیوں سے مسلسل آگاہ رہنا چاہیے www.australia.gov.au

غلط: سب لوگوں کی ٹیسٹنگ کر کے کرونا وائرس کا پھیلاؤ رک جائے گا

درست: ٹیسٹنگ وائرس کے پھیلاؤ کو نہیں روکتی۔

کسی بھی وائرس کی طرح COVID-19 بھی ایک انسان سے دوسرے تک پہنچتا ہے۔ صرف تمام وقت لوگوں کے آپس میں فاصلہ رکھنے اور طبیعت خراب ہونے کی صورت میں گھر میں کوارنٹین (علیحدگی) میں رہ کر ہی وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔

جن لوگوں میں COVID-19 کی علامات ظاہر ہوں، ان کی ٹیسٹنگ کے ذریعے وائرس کی تصدیق کر کے ہمیں مرض کے پھیلاؤ کا سراغ رکھنے اور مزید لوگوں تک پھیلاؤ کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر ہمیں پتہ ہو کہ ایک شخص کو یہ وائرس ہے تو وہ شخص خود کو الگ کر سکتا ہے اور ہم سراغ لگا سکتے ہیں کہ اس مریض کا واسطہ کس کس سے رہا ہے اور ہم وائرس کے مزید لوگوں تک پہنچنے کا خطرہ کم کر سکتے ہیں۔

تاہمCOVID-19  کے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود آپ کو خطرہ نہیں ہے یا آپ سے دوسروں کو خطرہ نہیں ہے۔ COVID-19 سے واسطہ پڑنے کے بعد، لیکن علامات شروع ہونے سے پہلے ہو سکتا ہے کہ آپ کے COVID-19  ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آئے۔ ہو سکتا ہے ایک دن آپ کا منفی نتیجہ آئے اور اگلے ہی دن آپ کو COVID-19  لگ جائے۔ اس لیے صفائی کے اچھے طریقوں پر عمل کرنا اور لوگوں سے فاصلہ رکھنا، اور صرف نہایت ضروری کاموں سے نکلنے کے علاوہ تمام وقت گھر میں رہنا، اتنا اہم ہے۔ اس سے نہ صرفCOVID-19  بلکہ دوسری بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد مل رہی ہے اور ہمارے صحت کے اداروں پر بوجھ کم ہو رہا ہے۔

غلط: ٹیسٹنگ کٹس درست نتائج نہیں دکھاتیں

درست: ابھیCOVID-19   کی ٹیسٹنگ کے لیے nucleic acid amplification (Polymerase chain reaction (PCR)) کہلایا جانے والا عمل استعمال ہو رہا ہے جو بہت درست نتائج دیتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں ایک طبی کارکن ایک شخص کے گلے اور ناک میں سلائی پھیر کر نمونہ لیتا ہے۔ اس وقت ٹیسٹنگ میں استعمال ہونے والے تمام اجزا آسٹریلیا سے باہر بن رہے ہیں، زیادہ تر یورپ اور ایشیا میں۔ اگرچہ ٹیسٹنگ کے اجزا کے کئی سپلائر اور مختلف سٹیٹس اور ٹیریٹریز میں لیبارٹریاں مختلف اجزا استعمال کر رہی ہیں، اہم بات یہ ہے کہ یہ سب ٹیسٹنگ کا ایک ہی طریقہ استعمال کر رہے ہیں۔ اس وقت ٹیسٹنگ میں استعمال ہونے والی تمام چیزوں کی فراہمی پر دباؤ ہے کیونکہ دنیا بھر میں ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی سپلائی اور مصنوعات سازی کی گنجائش ہے۔ پوائنٹ آف کیئر اینٹی باڈی ٹیسٹ تشخیص کے لیے درست نہیں ہیں لہذا اس مقصد کے لیے ان کے استعمال کا مشورہ نہیں دیا جاتا۔

آسٹریلین حکومت پبلک ہیلتھ لیبارٹری نیٹ ورک کے ذریعے لیبارٹریوں کے ساتھ اور کرونا وائرس کی ٹیسٹنگ کے لیے آسٹریلیا کی گنجائش اور اہلیت برقرار رکھنے کے لیے ضروری چیزوں کی سپلائی کو یقینی بنانے اور سپلائی کے ممکنہ متبادل حل تلاش کرنے کے لیے سپلائرز کے ساتھ قریبی تعاون کر رہی ہے۔

 

COVID-19 سے نبٹنے کے لیے آسٹریلین حکومت کے اقدامات میں اہم پیش رفت سے آگاہ رہنے کی خاطر اس ویب سائیٹ کو باقاعدگی سے دیکھتے رہیں۔

SBS کے پاس آپ کی زبان میں بھیCOVID-19  کے متعلق معلومات کا سلسلہ موجود ہے۔ آپ سرکاری معلومات کا ترجمہ کرنے کے لیے موبائل فون ایپس اور براؤزر ایکسٹینشنز بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اپنی ضرورت کے لحاظ سے ایسے ذرائع تلاش کریں۔

انگلش میں اضافی معلومات کے لیے دیکھیں  www.australia.gov.au