کرونا وائرس  (COVID-19)کے بارے میں غلط بیانات اور حقائق

COVID-19 ویکسین کے بارے میں غلط بیانات

غلط بیان: COVID-19 ویکسینز خطرناک ہیں اور بیرون ملک جن افراد کو یہ لگی ہيں ان پر سنگین منفی اثرات مرتب ہوئے ہيں

درست: Therapeutic Goods Administration آسٹریلیا میں ویکسینز کے استعمال کی منظوری دیتا ہے۔ آسٹریلیا میں استعمال کی منظوری دینے سے قبل تمام ویکسینز کو ان کے محفوظ ہونے کے حوالے سے مکمل طور پر ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اس میں کلینیکل ٹرائل ڈیٹا، اجزاء، کیمسٹری، مینوفیکچرنگ اور دیگر عوامل کا محتاط تجزیہ شامل ہے۔ COVID-19 ویکسین سے متعلق معلومات TGA کی ویب سائٹ https://www.tga.gov.au/covid-19-vaccines پر حاصل کی جاسکتی ہیں۔

COVID-19 ویکسینز کے ہر بیچ کا جائزہ لینے کے علاوہ Therapeutic Goods Administration ویکسینز کی آسٹریلیا میں فراہمی کے بعد بھی ان کے محفوظ ہونے پر نظر رکھتا ہے۔ آسٹریلیا کی حکومت برطانیہ، جرمنی اور ناروے سمیت بیرون ملک امیونائزیشن پروگراموں پر بھی کڑی نظر رکھ رہی ہے۔ ایک ساتھ مل کر، ان معلومات سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ آسٹریلیا کے باشندوں کو محفوظ اور مؤثر COVID-19 ویکسین تک رسائی حاصل ہے۔

اگر آپ کو کسی ویکسین سے مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو صحت کے کسی ماہر سے مدد لیں اور TGA (1300 134 237) کو اطلاع دیں۔

غلط: COVID-19 کے مقابلے میں ویکسین کے منفی ضمنی اثرات سے زیادہ لوگ ہلاک ہوں گے۔

درست: کسی بھی ویکسین میں کچھ ہلکے مضر اثرات ہو سکتے ہيں۔ ویکسینز سے ہونے والے بنیادی ضمنی اثرات میں انجیکشن کی جگہ پر کچھ خارش، لالی یا سوجن، سر درد یا ہلکا بخار اور تھکاوٹ شامل ہيں۔ ان میں سے بیشتر اثرات کو درد سے نجات کی ہلکی ادویات کی مدد سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور ان سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

Therapeutic Goods Administration – آسٹریلیا میں ادویات کا ریگولیٹر – کسی ایسی ویکسین کی منظوری نہیں دے گا جو محفوظ اور مؤثر نہ ہو۔ جن چیزوں پر یہ ادارہ قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے ان میں ایک چیز شدید ضمنی اثرات بھی ہيں۔

آسٹریلیا میں منظوری کا عمل دنیا بھر کے بہترین عوامل میں سے ایک ہے اور کسی بھی ایسی دوا کو اس ملک میں منظوری نہیں دی جائے گی جس کے شدید منفی ضمنی اثرات ہو سکتے ہیں۔ TGA کا کام منظوری دیئے جانے تک ہی محدود نہیں ہے۔ وہ بیرون ملک سے ملنے والے ڈيٹا اور یہاں رول آؤٹ پر بھی گہری نظر رکھتا ہے۔ کسی بھی چیز کو محض چانس پر نہیں چھوڑا گیا ہے۔

اگر آپ کو کسی ویکسین سے مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو صحت کے کسی ماہر سے مدد لیں اور TGA (1300 134 237) کو اطلاع دیں۔

غلط: حکومت ویکسین رول آؤٹ کو بہانہ بنا کر آپ کا ڈی این اے اکٹھا\تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

درست: ویکسینز کو آپ کے جسم میں بذریعہ انجیکشن داخل کیا جاتا ہے، وہ آپ کے جسم میں سے کسی چیز کو نہیں ہٹاتیں اور وہ آپ کے ڈی این میں تبدیلی نہيں کرتیں۔ COVID-19 کی کچھ نئی ویکسینز میسنجر RNA (mRNA) کے ایک باریک ٹکڑے کو استعمال کرتے ہوئے آپ کے جسم کو COVID-19 کے خلاف ایک مدافعتی ردعمل پیدا کرنے کی ہدایات دیتی ہیں۔ mRNA آپ کے DNA کو کچھ نہيں کرتا۔

غلط: وائرس اتنی تیزی سے اپنی شکل تبدیل کرتا ہے کہ ویکسین کبھی کام نہيں کرے گی۔

درست: تمام وائرس اپنی شکل بدلتے رہتے ہيں۔ یہ ان کے قدرتی ارتقاء کا ایک عام حصہ ہے اور COVID-19 ان سے کچھ مختلف نہيں ہے۔ شواہد کی روشنی میں، COVID-19 کی ویکسینز نئی اقسام کے خلاف بھی مؤثر ہوں گی۔

اس کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو بوسٹر شاٹس یا دوبارہ ویکسین لگوانے کی ضرورت پڑے – جیسا کہ فلو کے لئے ہوتا ہے۔ اس وقت آسٹریلیا میں استعمال کے لئے منظور کی جانے والی ویکسینز نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ COVID-19 سے شدید بیماری سے بچاؤ کے لئے انتہائی موثر ہیں۔

غلط: جن لوگوں کو COVID-19 ہوا تھا اور وہ صحتیاب ہو گئے ہيں انہیں ویکسین لگوانے کی ضرورت نہیں ہے۔

درست: COVID-19 سے صحتیاب ہونے کے بعد اس سے ملنے والی حفاظت کا درجہ ہر شخص میں مختلف ہوتا ہے۔ چونکہ یہ ایک نیا وائرس ہے لہذا ہم نہیں جانتے کہ قدرتی مدافعت کتنی دیر برقرار رہ سکتی ہے۔ اگر آپ کو COVID-19 ہو چکا ہے پھر بھی جب ہو سکے آپ کو COVID-19 ویکسین لگوانی چاہئے۔

غلط: COVID-19 ویکسینز میں نگرانی کی غرض سے سافٹ ویئر\مائیکروچپ شامل کی گئی ہیں۔

درست: COVID-19 کی کسی بھی ویکسین میں سافٹ ویئر یا مائیکروچپ نہیں ہیں۔

COVID-19 کے بارے میں دیگر غلط بیانات

غلط: بچے COVID-19کو 'پھیلانے میں سب سے آگے ہیں'

درست: اگرچہ بالعموم چھوٹے بچوں کو جراثیم اور بیماریاں 'پھیلانے میں سب سے آگے' مانا جاتا ہے جیسے انفلوئنزا پھیلانے میں، COVID-19 کے حالیہ شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ سکولوں میں بچوں کو بچوں سے یہ بیماری لگنا عام نہیں ہے۔ نیز دنیا میں کہیں بھی ایسی معلومات جمع نہیں ہوئیں جن سے پتہ چلتا ہو کہ چھوٹے بچوں سے یہ وائرس وسیع پیمانے پر پھیلا ہے۔ اگرچہ یہ ممکن ہے تاہم حالیہ شواہد یہی بتاتے ہیں کہ بچے اس وائرس کو پھیلانے میں آگے نہیں ہیں جو COVID-19 پیدا کرتا ہے۔

غلط: آسٹریلیا ضرورت کے لیے کافی طبی سازوسامان اور ضروری چیزیں (سانس دلانے کی مشینیں، ماسک، ٹیسٹنگ کٹس) حاصل نہیں کر پا رہا

درست: آسٹریلیا مرض کے ابھار کو چپٹا کرنے میں بہت کامیاب رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھنے سے بچ گئے ہیں۔

آسٹریلیا میں ہمارے پاس ذاتی تحفظ کا کافی سازوسامان موجود ہے اور آسٹریلیا میں لگاتار مزید سامان بن بھی رہا ہے اور پہنچ بھی رہا ہے۔ مثال کے طور پر National Medical Stockpile (طبی سازوسامان کا قومی ذخیرہ) میں بہت سامان موجود رہتا ہے اور نصف بلین سے زیادہ ماسکوں کا آرڈر بھی دیا گیا ہے جو 2021 میں مختلف اوقات پر پہنچائے جائیں گے۔

Communicable Diseases Network Australia (آسٹریلیا میں چھوتی بیماریوں کا نیٹ ورک) اور پبلک ہیلتھ لیبارٹری نیٹ ورک سمیت آسٹریلین حکومت کی مشیر کمیٹیاں اکثر میٹنگیں کر کے COVID-19 کی ٹیسٹنگ کے تقاضوں سے متعلق رہنمائی کو جانچتی رہتی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ COVID-19 وبا پر ہمارے سرکاری نظام صحت کے اقدامات میں مدد کے لیے ضروری ٹیسٹنگ انجام دی جاتی رہے۔

غلط: COVID-19 کی وجہ سے ضرورت بڑھ جانے پر آسٹریلیا کے ہسپتال ضرورت پوری کرنے کے قابل نہیں رہیں گے

درست: آسٹریلیا مرض کے ابھار کو چپٹا کرنے میں بہت کامیاب رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھنے سے بچ گئے ہیں۔ آسٹریلیا میں عالمی معیار کا نظام صحت ہے جو اس لحاظ سے بڑی اچھی پوزیشن میں ہے کہ ضرورت پڑنے پر COVID-19  کے اضافی تقاضے پورے کر سکے۔ اس میں آسٹریلین حکومت، سٹیٹس اور ٹیریٹریز کی حکومتوں اور پرائیویٹ شعبۂ صحت کے اشتراک کار کے ذریعے ہسپتالوں میں اضافی بستروں کی گنجائش، طبی سازوسامان، ضروری چیزوں کی فراہمی اور طبی عملے کی دستیابی شامل ہے۔

غلط: دو ہفتوں کے لاک ڈاؤن سے COVID-19کا پھیلاؤ رک جائے گا

درست: دو یا تین ہفتوں تک پابندیاں لگا کر اور پھر پابندیاں ہٹا کر واپس عام زندگی شروع کر لینے سے COVID-19کا پھیلاؤ نہیں رکے گا۔

COVID-19 کے اکثر مریضوں کی علامات محض ہلکی ہوتی ہیں یا بالکل کوئی علامات نہیں ہوتیں۔ صرف دو ہفتے کے لاک ڈاؤن میں خطرہ یہ ہے کہ جن لوگوں کا COVID-19 علامات کے بغیر ہو، وہ لاک ڈاؤن کے اختتام پر کاروبار زندگی دوبارہ کھلنے پر لاعلمی میں دوسرے لوگوں تک یہ وائرس پہنچا سکتے ہیں۔

COVID-19 کا پھیلاؤ آہستہ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہاتھوں کی اچھی صفائی اور کھانسنے اور چھینکنے کے سلسلے میں حفظان تحفظ برقرار رکھا جائے، لوگوں سے فاصلہ رکھا جائے، بیماری کی صورت میں گھر میں رہا جائے اور اپنا ٹیسٹ کروایا جائے اور اگر آپ ایسے علاقے میں ہوں جہاں مقامی لوگوں کو ایک دوسرے سے یہ وائرس لگنے کے زیادہ کیس ہو رہے ہیں اور وہاں لوگوں سے فاصلہ رکھنا ممکن نہیں ہے تو ماسک پہنا جائے۔

ہمارے ماہرین صحت آسٹریلیا میں ہر روز نئے کیسوں کی تعداد اور بیماری کے پھیلاؤ کے علاقوں پر مسلسل نظر رکھیں گے۔ اس طرح وہ شواہد کی بنیاد پر مشورے دیں گے کہ کونسے نئے اصول یا پابندیاں لاگو کرنا ضروری ہے۔ سب لوگوں کو اس ویب سائیٹ کے ذریعے حالیہ پابندیوں سے مسلسل آگاہ رہنا چاہیے  www.australia.gov.au

غلط: سب لوگوں کی ٹیسٹنگ کر کے کرونا وائرس کا پھیلاؤ رک جائے گا

درست: ٹیسٹنگ وائرس کے پھیلاؤ کو نہیں روکتی۔

COVID-19 کی روک تھام اور کنٹرول کے کام میں ایک بنیادی ستون یہ ہے کہ بروقت، قابل پیمائش اور درست تشخیصی ٹیسٹنگ مہیا ہو۔ تشخیصی ٹیسٹنگ بیماری کے وبائی پہلوؤں کی وضاحت، کیسوں اور رابطوں سے درست طور پر نبٹنے کے لیے معلومات اور نتیجتاً وائرس کے پھیلاؤ میں کمی لانے کے لیے نہایت اہم کردار رکھتی ہے۔

تاہم COVID-19 ٹیسٹ کا منفی نتیجہ آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو اس کا خطرہ نہیں ہے یا آپ دوسروں کے لیے خطرے کا باعث نہیں ہیں۔ SARS-CoV-2 (وہ وائرس جو COVID-19 پیدا کرتا ہے) سے واسطہ پڑنے کے بعد، لیکن علامات ظاہر ہونے سے پہلے، آپ کے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آ سکتا ہے۔ اسی لیے یہ اتنا اہم ہے کہ ہاتھوں کی اچھی صفائی اور لوگوں سے فاصلے کو برقرار رکھا جائے اور  طبیعت خراب ہونے کی صورت میں گھر میں رہا جائے۔ ان اقدامات کے ساتھ ساتھ باقاعدہ ہدف کے تحت ٹیسٹنگ کر کے COVID-19 اور دوسری متعدّی بیماریوں کے پھیلاؤ میں مدد مل رہی ہے اور آسٹریلیا کے نظام صحت پر بوجھ کم ہے۔

کسی علاقے میں کیسوں میں اضافے اور بیماری تیزی سے بڑھنے پر یہ ضروری ہوتا ہے کہ صحت عامّہ کے کامیاب انتظام کے لیے احتیاط سے ہدف طے کیے جائیں تاکہ ایک طرف وبا پر قابو اور دوسری طرف لیبارٹریوں کے چلتا رہ پانے اور ٹیسٹنگ کے مقامات کی گنجائش کے درمیان درست توازن رکھا جائے۔

ہم اس بات کی شدت سے حوصلہ شکنی کرتے ہیں کہ آسٹریلیا کے جن لوگوں میں کوئی علامات نہ ہوں (asymptomatic)، ان کی بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کی جائے۔ ٹیسٹنگ کی یہ حکمت عملی نہ تو وباؤں کی سائنس کے لحاظ سے کوئی ٹھوس حکمت عملی ہے اور نہ ہی یہ خرچ کے لحاظ سے بیماری کے پھیلاؤ کی شناخت کا مؤثر طریقہ ہے۔ آسٹریلین حکومت تسلیم کرتی ہے کہ بیماری پر قابو کے بعض مخصوص معاملات میں اور نگرانی کے مقاصد سے ان لوگوں کی ٹیسٹنگ کا سوال اٹھ سکتا ہے جن میں کوئی علامات نہ ہوں۔ ان معاملات میں مرض کے تیزی سے پھیلنے کے ماحول، مرض کے زیادہ پھیلاؤ کے خطرے سے دوچار گروہوں والے علاقوں کا کم پھیلاؤ والے علاقوں سے موازنہ، وائرس سے واسطے کا خاص زیادہ خطرہ رکھنے والے گروہ اور زیادہ پھیلاؤ کے خطرے والے ماحول میں موجود وہ لوگ جنہیں انفیکشن لگنے کی صورت میں شدید بیماری کا خطرہ ہے، شامل ہیں۔

آسٹریلین حکومت اب بھی یہی سفارش کرتی ہے کہ  ٹیسٹنگ کی حکمت عملیاں، جن میں علامات نہ رکھنے والے لوگوں کی کام پر سکریننگ کے پروگرام شامل ہیں، صحت عامّہ کے متعلقہ حکام اور لیبارٹریوں کے ڈائریکٹروں کے مشورے سے وضع کی جائیں۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مناسب ترین اور مؤثر ترین طریقے استعمال کیے جائیں۔ علامات نہ رکھنے والوں کی بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کے بارے میں آسٹریلین حکومت کے مؤقف کے بارے میں Department of Health website دیکھیں۔

غلط: ٹیسٹنگ کٹس درست نتائج نہیں دکھاتیں

درست: آسٹریلیا میں COVID-19 ٹیسٹ بہت درست نتائج فراہم کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا میں استعمال ہونے والے ٹیسٹنگ کے تمام طریقوں کی جامع طور پر توثیق کی گئی ہے۔ Therapeutic Goods Administration (TGA، علاج میں استعمال ہونے والی چیزوں کے انتظام کا ادارہ) ان طریقوں کی بھرپور نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اور معیار کی یقین دہانی کے ان پروگراموں میں شرکت کے التزام کے ذریعے بھی نظر رکھتا ہے جو بالخصوص SARS-CoV-2 (COVID-19 پیدا کرنے والا وائرس) کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔

آسٹریلیا میں لیبارٹری میں ہونے والی (Polymerase chain reaction, PCR) ٹیسٹنگ وہ سنہری معیار کا ٹیسٹ ہے جو انسانی جسم میں شدید SARS-CoV-2 انفیکشن کی تشخیص کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہ ٹیسٹ کرنے کے لیے نظام تنفّس سے نمونہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ PCR  ٹیسٹ بہت حسّاس ہیں اور نظام تنفّس سے لیے گئے نمونے میں SARS-CoV-2 کے مخصوص جینٹیک ریزوں کی نہایت کم موجودگی بھی دریافت کر لیتے ہیں۔

آسٹریلیا میں کسی بھی قسم کی ٹیسٹنگ ٹیکنالوجی کے لیے TGA کی بہت محتاط جانچ ضروری ہوتی ہے جس کے ذریعے نتائج کا معیاری اور قابل اعتبار ہونا یقینی بنایا جاتا ہے اور اس ٹیکنالوجی کی قانونی فراہمی ممکن ہوتی ہے۔ اس بارے میں تازہ معلومات کے لیے کہ Australian Register of Therapeutic Goods میں کونسے COVID-19 ٹیسٹ شامل ہیں، TGA کی ویب سائیٹ دیکھیں: www.tga.gov.au/covid-19-test-kits-included-artg-legal-supply-australia

غلط: کرونا وائرس جھوٹ ہے

درست: COVID-19 ایک کرونا وائرس (SARS-CoV-2) کی وجہ سے ہوتا ہے جو وائرسوں کے ایک بڑے گروہ سے تعلق رکھتا ہے جو انسانوں اور جانوروں دونوں میں نظام تنفّس کے انفیکشن پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ انفیکشن عام زکام سے لے کر زیادہ شدید بیماری تک ہو سکتے ہیں۔COVID-19  جسم سے خارج ہونے والے باریک قطروں اور آلودہ سطحوں کے ذریعے لوگوں میں پھیلتا ہے۔

آسٹریلیا میں Peter Doherty Institute for Infection and Immunity (متعدی امراض اور مدافعت پر تحقیق کا ادارہ) میںVictorian Infectious Diseases Reference Laboratory   (VIDRL،  وکٹوریا میں متعدّی امراض کی ریفرنس لیبارٹری) چین سے باہر وہ پہلی لیبارٹری تھی جس نے SARS-CoV-2 کو مریضوں کے نمونوں سے آئسولیٹ (الگ) کیا۔ VIDRL نے یہ آئسولیٹ کیا ہوا وائرس دوسری آسٹریلین لیبارٹریوں، عالمی ادارۂ صحت اور دوسرے ممالک کو بھی دیا تاکہ COVID-19 کے تشخیصی ٹیسٹوں کی تیاری، توثیق اور تصدیق ممکن ہو۔

آسٹریلیا اپنی سرکاری اور نجی پیتھالوجی لیبارٹریوں کے ایسے ماہر نیٹ ورک کی معاونت کے باعث خوش قسمت ہے جو SARS-CoV-2 کی دریافت اور تصدیق کی اہلیت اور موزوں اسناد رکھتا ہے۔ ٹیسٹنگ کی گنجائش بڑھانے کے ضمن میں ان لیبارٹریوں کی اہلیت آسٹریلیا کی ابھار کو چپٹا کرنے میں کامیابی اور دوسرے ممالک میں دیکھی گئی انفیکشن کی تباہ کن شرح سے بچنے میں نہایت اہم رہی ہے۔ آسٹریلیا اور دنیا بھر میں COVID-19 میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد اور اس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ آسٹریلین ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ روزانہ یہ معلومات شائع کرتا ہے۔

غلط: ماسک غیر مؤثر اور/یا غیرمحفوظ ہیں

درست: جب ماسک کو اچھے حفظان صحت، لوگوں سے فاصلہ رکھنے اور بیماری کی صورت میں گھر میں رہنے اور ٹیسٹ کروانے جیسی دوسری احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ استعمال کیا جائے تو ماسک COVID-19 کا پھیلاؤ روکنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

نظام تنفّس کے اکثر وائرسوں کی طرح SARS-CoV-2 (COVID-19 پیدا کرنے والا وائرس) بنیادی طور پر ان باریک قطروں میں موجود وائرس سے پھیلتا ہے جو انفیکشن میں مبتلا شخص کے بولنے، کھانسنے یا چھینکنے سے خارج ہوتے ہیں۔ وائرس سے آلودہ سطحوں کے ذریعے بھی پھیلاؤ ممکن ہے۔ COVID-19 سمیت نظام تنفّس کے کسی بھی وائرس کے انفیکشن میں مبتلا شخص کے ماسک پہننے سے، چاہے اس میں علامات ہوں یا نہ ہوں، دوسروں کو وائرس سے اس طرح بچایا جا سکتا ہے کہ منہ اور ناک سے خارج ہونے والے وائرس کے حامل باریک قطروں کا پھیلاؤ کم ہو جاتا ہے۔ صحت اور نگہداشت کے شعبے میں کام کرنے والے لوگ جب COVID-19 سمیت نظام تنفّس کے کسی انفیکشن میں مبتلا شخص سے فاصلہ نہ رکھ سکتے ہوں تو وہ اپنی حفاظت کے لیے ماسک پہنتے ہیں۔

ماسک پہننا COVID-19 کا پھیلاؤ سست کرنے والے اقدامات میں سے صرف ایک قدم ہے اور یہ دوسری احتیاطی تدابیر کا متبادل نہیں ہے۔ یہ اہم ہے کہ ہم ہاتھوں کی اچھی صفائی، کھانسنے اور چھینکنے کے ضمن میں حفظان صحت برقرار رکھنا، لوگوں سے فاصلہ رکھنا اور بیماری کی صورت میں گھر میں رہنا اور ٹیسٹ کروانا جاری رکھیں۔

ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ ماسک پہننا غیر محفوظ ہے یا اس کی وجہ سے آکسیجن کی کمی جیسے مسائل ہوتے ہیں۔ صحت کی نگہداشت فراہم کرنے والے کارکن بہت سالوں سے لمبے دورانیوں کے لیے ماسک پہنتے آئے ہیں اور انہیں ایسے کوئی مسائل پیش نہیں آئے۔

 

COVID-19 پر آسٹریلین حکومت کے اقدامات میں اہم پیش رفت سے آگاہ رہنے کے لیے یہ ویب سائیٹ باقاعدگی سے دیکھتے رہیں۔

SBS کے پاس آپ کی زبان میں بھیCOVID-19  کے متعلق معلومات کا سلسلہ موجود ہے۔ آپ سرکاری معلومات کا ترجمہ کرنے کے لیے موبائل فون ایپس اور براؤزر ایکسٹینشنز بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اپنی ضرورت کے لیے درست ذرائع تلاش کریں۔

انگلش میں اضافی معلومات کے لیے دیکھیں  www.australia.gov.au